Monday, 6 January 2014

ہم خوابوں کے بیوپاری تھے پر اس میں ہوا نقصان بڑا

ہم خوابوں کے بیوپاری تھے، پر اس میں ہُوا نقصان بڑا
 کچھ بخت میں ڈھیروں کالک تھی کچھ اب کے غضب کا کال پڑا
 ہم راکھ لئے ہیں‌ جھولی میں‌ اور سر پہ ہے ساہوکار کھڑا
یاں بُوند نہیں ہے ڈیوے میں، وہ باج بیاج کی بات کرے
ہم بانجھ زمیں کو تکتے ہیں، وہ ڈہور اناج کی بات کرے
ہم کچھ دن کی مہلت مانگیں، وہ آج ہی آج کی بات کرے
 جب دھرتی صحرا صحرا تھی، ہم دریا دریا روئے تھے
 جب ہاتھ کی ریکھائیں چُپ تھیں اور سُر سنگیت میں سوئے تھے
تب ہم نے جیون کھیتی میں، کچھ خواب انوکھے بوئے تھے
 کچھ خواب سجل مسکانوں کے، کچھ بول کبد دیوانوں کے
 کچھ لفظ جنہیں معنی نہ ملے کچھ حرف شکستہ جانوں کے
 کچھ نیر و وفا کی شمعوں کے، کچھ پَر پاگل پروانوں کے
 پھر اپنی گھائل آنکھوں سے خوش ہو کے لہو چھڑکایا تھا
 ماٹی میں ماس کی کھاد بھری اور نس نس کو زخمایا تھا
اور بھول گئے پچھلی رُت میں، کیا کھویا تھا، کیا پایا تھا
ہر بار گگن نے وہم دیا، اب کے برکھا جب آئے گی
ہر بیج سے کونپل پھوٹے گی اور ہر کونپل پھل لائے گی
سر پر چھایا چھتری ہو گی اور دھوپ گھٹا بن جائے گی
 جب فصل کٹی تو کیا دیکھا، کچھ درد کے ٹُوٹے گجرے تھے
 کچھ زخمی خواب تھے کانٹوں پر کچھ خاکستر سے کجرے تھے
 اور دور اُفق کے ساگر میں کچھ ڈولتے ڈولتے بجرے تھے
 اب پاؤں کھڑاؤں دُھول بھری اور تن پہ جوگ کا چولا ہے
 سب سنگی ساتھی بھید بھرے کوئی ماشہ ہے کوئی تولہ ہے
اس تاک  میں وہ، اس گھات میں یہ، ہر اور ٹھگوں کا ٹولہ ہے
 اب گھاٹ ہے نہ گھر، دیوار نہ در، اب پاس رہا ہے کیا بابا
 بس اک تن کی گٹھڑی باقی ہے، جا یہ بھی تُو لے جا بابا
 ہم بستی کو چھوڑے جاتے ہیں، تُو اپنا قرض چکا بابا

 احمد فراز


 چند دنوں سے فراز صاحب کی یہ نظم کی یہ نظم بار بار سننے کا موقع ملا، مجھے ایسی بھائی کہ اسے اردو رسم الخط میں آپ سب دوستوں کے ساتھ بانٹنے کا دل کیا، مجھے امید ہے کہ آپ سب کو پسند آئے گی۔ وڈیو لنک بھی دے رہا ہوں آپ سنئے گا اور اور فراز صاحب کے لئے دعا کیجئے گا، شکریہ


No comments:

Post a Comment