Thursday, 1 December 2016

وفا سرشت ہے میری کہا نہ کرتا تھا

وفا سرشت ہے میری، کہا نہ کرتا تھا
یہ فیصلہ بھی مرے حق میں ہوا نہ کرتا تھا
بہت دنوں سے مرے گھر پہ روز آتا ہے
بلاتے رہتے تھے جس کو سنا نہ کرتا تھا
یقیں نہیں ہے کہ مجبور ہو گیا وہ بھی
خدا پرست تھا ایسا، دعا نہ کرتا تھا

زندگی میں کوئی کمی ہے کہیں

زندگی میں کوئی کمی ہے کہیں
لاکھ ڈھونڈا پتہ چلا بھی نہیں
زندگی دُھند اداس جنگل کی
کھو گئے ہو تم اس میں دور کہیں
دل کی دنیا میں آ کے دیکھو تو
اس سے بہتر نہ آسماں، نہ زمیں

اس کی یادوں کا سلسلہ ہو گا

اس کی یادوں کا سلسلہ ہو گا
اس کہانی میں اور کیا ہو گا 
جب بچھڑ کر بھی وہ خموش رہا
گھر پہنچ کر تو رو دیا ہو گا
خود کو سمجھا لیا ہے میں نے مگر
کیا وہ خود بھی بدل گیا ہو گا 

تو میری زندگی ہے تو میری ہر خوشی ہے

فلمی گیت

تُو میری زندگی ہے تُو میری ہر خوشی ہے
تُو ہی پیار، تُو ہی چاہت، تُو ہی بندگی ہے
تُو ہی پیار، تُو ہی چاہت ۔۔۔۔

جب تک نہ دیکھوں تجھے سورج نہ نکلے
زلفوں کے سائے سائے، مہتاب ابھرے
میرے دل میں تُو ہی تُو ہے تیری روشنی ہے

قدموں میں تیرے جینا مرنا اب دور یہاں سے جانا کیا

فلمی گیت

قدموں میں تیرے جینا مرنا اب دور یہاں سے جانا کیا
اک بار جہاں سر جھک جاۓ پھر سر کو وہاں سے اٹھانا کیا
 قدموں میں تیرے جینا مرنا۔۔۔۔

دل بھی تیرا جاں بھی تیری ہر سانس امانت ہے تیری
دے حکم ہمیں اے جانِ وفا! ہم پیش کریں نذرانہ کیا
قدموں میں تیرے جینا مرنا۔۔۔۔

یوں تو ہر شخص نے دنیا میں محبت کی ہے ہم نے اے جان وفا تیری عبادت کی ہے

ہم نے اے جانِ وفا تیری عبادت کی ہے

فلمی گیت

یوں تو ہر شخص نے دنیا میں محبت کی ہے 
ہم نے اے جانِ وفا تیری عبادت کی ہے
ہم نے تو اپنا خدا مان لیا ہے تجھ کو
جو فرشتوں سے نہ ہو پائے وہ عبادت کی ہے
ہم نے اے جانِ وفا۔۔

مجھے دل سے نہ بھلانا

فلمی گیت

تیرے بن میرا جیون کچھ نہیں

مجھے دل سے نہ بھلانا 
چاہے روکے یہ زمانہ
تیرے بن میرا جیون کچھ نہیں

جب سے دیکھا تمہیں 
کچھ نہ چاہا صنم