Sunday, 1 May 2016

پوچھ مت دیکھ کہ کیا حال اریب آج بھی ہے

پوچھ مت دیکھ کہ کیا حال اریب آج بھی ہے
اپنے ہی شہر میں بے چارہ غریب آج بھی ہے
تھی تو مرہم کی ضرورت پہ تِری یاد کے ساتھ
ایک نشتر سا مِرے دل کے قریب آج بھی ہے
دوست پھر دوست ہے اب اس سے شکایت کیا ہو
خود مِرا بختِ سیہ،۔ میرا رقیب آج بھی ہے

ستارے ڈوب چکے ماہتاب باقی ہے

ستارے ڈوب چکے، ماہتاب باقی ہے 
مِر ے گلاس میں تھوڑی شراب باقی ہے
گلوں میں رنگ، بہاروں میں دلکشی ہے ابھی
تِرا جمال سلامت،۔۔ شباب باقی ہے
میں تیری زلف کی آیت سے جب گزرنے لگا
'کہا یہ رخ نے کہ 'پوری کتاب باقی ہے

غم کدے وہ جو ترے گام سے جل اٹھتے ہیں

غم کدے وہ جو تِرے گام سے جل اٹھتے ہیں
بت کدے وہ جو مِرے نام سے جل اٹھتے ہیں
رات تاریک سہی،۔ میری طرف تو دیکھو
کتنے مہتاب ابھی جام سے جل اٹھتے ہیں
رات کے درد کو کچھ اور بڑھانے کے لیے
ہم سے کچھ سوختہ جاں شام سے جل اٹھتے ہیں

اسباب نہ لشکر نہ سپر کوئی نہیں تھا

اسباب نہ لشکر، نہ سِپر، کوئی نہیں تھا
سالار کو ایسے میں بھی ڈر کوئی نہیں تھا
میں لوٹ کے آیا تو زمانہ تھا کوئی اور
بستی تو سلامت تھی، مگر کوئی نہیں تھا
اس وقت کی باتیں بھی مجھے اس نے بتائیں
جب میرے لیے بابِ خبر کوئی نہیں تھا

کہیں شعور میں صدیوں کا خوف زندہ تھا

کہیں شعور میں صدیوں کا خوف زندہ تھا
میں شاخِ عصر پہ بیٹھا ہوا پرندہ تھا
بدن میں دل تھا معلق، خلا میں نظریں تھیں
مگر کہیں کہیں سینے میں درد زندہ تھا
پھر ایک رات مجھی پر جھپٹ پڑا مِرا ضبط
جسے میں پال رہا تھا، کوئی درندہ تھا

تم سے چھٹ کر چیت میں اب کے جو بھی حالت اس کی ہو

تم سے چھٹ کر چیت میں اب کے جو بھی حالت اسکی ہو
جس نے اے متوالی رادھا! تم سے ہولی کھیلی ہو
ساون میں یوں ابر کے ٹکڑے بہکے بہکے پھرتے ہیں
جیسے کسی شاعر کی طبیعت بہکی بہکی پھرتی ہو
چھَٹ گیا بادل، تھم گیا پانی، منظر کی یہ حالت ہے
جیسے کوئی غمگین حسینہ، رو دھو کر چپ بیٹھی ہو

نظر سے محبت جتانا نہ آیا

نظر سے محبت جتانا نہ آیا
تمہیں یار! آنکھیں لڑانا نہ آیا
کٹی عمر ساری حسینوں میں لیکن
سلیقے سے دل بھی لگانا نہ آیا
چمن میں گلوں نے بہت کوششیں کیں
تمہاری طرح مسکرانا نہ آیا