Monday, 6 November 2017

چاندنی نے رات کا موسم جواں جیسے کیا

چاندنی نے رات کا موسم جواں جیسے کیا 
ہم نے بھی چہرہ فروزاں شیشۂ مے سے کیا 
پاسِ خودداری تو ہے لیکن وفا دشمن نہیں 
تم  نے ہم پر ترکِ الفت کا گماں کیسے کیا 
ہم گناہوں کی شریعت سے ہوئے جب آشنا 
جسم نے جو فیصلہ جیسے دیا، ویسے کیا 

دیکھے کوئی جو چاک گریباں کے پار بھی

دیکھے کوئی جو چاک گریباں کے پار بھی 
آئینۂ خزاں میں ہے عکس بہار بھی 
اب ہر نفس ہے بھیگی صداؤں کی اک فصیل 
موجِ ہوس تھی گردشِ لیل و نہار بھی 
کیا شورشِ جنوں ہے، ذرا کم نہیں ہوا 
قربت کے باوجود تِرا انتظار بھی 

کیا عدو کیا دوست سب کو بھا گئیں رسوائیاں

کیا عدو کیا دوست سب کو بھا گئیں رسوائیاں 
کون آ کر ناپتا احساس کی پہنائیاں 
اب کسی موسم کی بے رحمی کا کوئی غم نہیں 
ہم نے آنکھوں میں سجائی ہیں تِری انگڑائیاں 
آپ کیا آئے بہاروں کے دریچے کھل گئے 
خوشبوؤں میں بس گئیں ترسی ہوئی تنہائیاں 

Friday, 3 November 2017

دھیان کا جب بھی کوئی پٹ کھولا

آورد

دھیان کا جب بھی کوئی پٹ کھولا
"میری بات نہ کہہ" دل بولا
دل کی بات کہی بھی نہ جائے 
ضبط کی ٹیس سہی بھی نہ جائے 
نظم میں کس کا ذکر کروں اب
فکر میں ہوں کیا فکر کروں اب

جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے

جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے
(انقلابی شاعری)

ستم کرو  گے ستم کریں گے
کرم کرو گے کرم کریں گے
ہم آدمی ہیں تمھارے جیسے
جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے

شہر آشوب اپنی بود و باش نہ پوچھو

شہر آشوب

اپنی بود و باش نہ پوچھو
ہم سب بے توقیر ہوئے 
کون گریباں چاک نہیں ہے 
ہم ہوئے، تم ہوئے، میرؔ ہوئے
سہمی سہمی دیواروں میں
سایوں جیسے رہتے ہیں
اس گھر میں آسیب بسا ہے 

رفوگر دھیان سے یہ زخم خنجر کے نہیں

رفوگر

رفوگر
دھیان سے
یہ زخم خنجر کے نہیں 
ادھڑے ہوئے وعدوں کی رسوائی کے ہیں 
انہیں چھونا نہیں 
اِن کی تہوں میں جھانک کر