Thursday, 17 December 2015

ايک مشکل سی بہر طور بنی ہوتی ہے

ايک مشکل سی بہر طور بنی ہوتی ہے 
تجھ سے باز آئيں تو پھر خود سے ٹھنی ہوتی ہے 
کچھ تو لے بيٹھتی ہے اپنی شکستہ پائی 
اور کچھ راہ ميں چھاؤں بھی گھنی ہوتی ہے 
آبلہ پائی بھی ہوتی ہے مقدر اپنا 
سر پہ افلاک کی چادر بھی تنی ہوتی ہے 
ميرے سينے سے ذرا کان لگا کر ديکھو 
سانس چلتی ہے کہ زنجير زنی ہوتی ہے 
دودھ کی نہر نکالی ہے غموں سے ہم نے 
ہم بتا سکتے ہيں کيا کوہ کنی ہوتی ہے 
آنکھ تو کھلتی ہے کرنوں کی طلب ميں ليکن 
زيبِ مژگاں کسی نيزے کی انی ہوتی ہے 
دشتِ غربت پہ ہی موقوف نہيں ہے تابشؔ 
اب تو گھر ميں بھی غريب الوطنی ہوتی ہے

عباس تابش

No comments:

Post a Comment