عشق زادوں کے لہو کا یہ اثر لگتا ہے
آج بھی دشت میں نیزے کو ثمر لگتا ہے
کوفہ و شام مراحل ہیں گزر جائیں گے
یہ مدینے سے مدینے کا سفر لگتا ہے
اس زمانے میں غنیمت ہے غنیمت ہے میاں
ہم کو دل نے نہیں، حالات نے نزدیک کیا
دھوپ میں دور سے ہر شخص شجر لگتا ہے
ایک مدت سے مِری ماں نہیں سوئی تابشؔ
میں نے اِک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
عباس تابش
No comments:
Post a Comment