کئی دنوں تک نظر میں رہنے پہ ہاں کرے گی
وہ پہلی کوشش پہ دل کشادہ کہاں کرے گی
خدا کی مرضی بتا رہا تھا بچھڑنے والا
وہ جانتا تھا کہ گیلی لکڑی دھواں کرے گی
مجھے پتا ہے میں اسکی نظروں سے گر گیا ہوں
بچھڑ گئے دوست تو غلط فہمیاں بڑھیں گی
زمیں پہ بکھرے تنوں کا دیمک زیاں کرے گی
بغیر پتوار معجزہ ہو گا پار لگنا
یہ لہر پر ہے کدھر سفینہ رواں کرے گی
کوئی شگوفہ تمہارے ہنسنے کا منتظر ہے
کسی نظارے کو دھوپ آ کر عیاں کرے گی
نادر عریض
No comments:
Post a Comment