Friday, 14 August 2020

کئی دنوں تک نظر میں رہنے پہ ہاں کرے گی

کئی دنوں تک نظر میں رہنے پہ ہاں کرے گی
وہ پہلی کوشش پہ دل کشادہ کہاں کرے گی
خدا کی مرضی بتا رہا تھا بچھڑنے والا
وہ جانتا تھا کہ گیلی لکڑی دھواں کرے گی
مجھے پتا ہے میں اسکی نظروں سے گر گیا ہوں
مِری توجہ بھی اب اسے بد گماں کرے گی
بچھڑ گئے دوست تو غلط فہمیاں بڑھیں گی
زمیں پہ بکھرے تنوں کا دیمک زیاں کرے گی
بغیر پتوار معجزہ ہو گا پار لگنا
یہ لہر پر ہے کدھر سفینہ رواں کرے گی
کوئی شگوفہ تمہارے ہنسنے کا منتظر ہے
کسی نظارے کو دھوپ آ کر عیاں کرے گی

نادر عریض

No comments:

Post a Comment