Friday, 14 August 2020

رہیے احباب سے کٹ کر کہ وبا کے دن ہیں

کورونا وبا کے تناظر میں کہی گئی ایک غزل

رہئیے احباب سے کٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں 
سانس بھی لیجیۓ ہٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں 
وہ جنہیں خود سے بھی ملنے کی نہیں تھی فرصت 
رہ گئے خود میں سمٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں 
رونقِ بزمِ جہاں خود کو سمجھنے والے 
آ گئے گھر کو پلٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں 
کیا کسی اور سے اب حرفِ تسلی کہیۓ 
روئیے خود سے لپٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں 
ایک جھٹکے میں ہوئے شاہ و گدا زیر و زبر 
رہ گئی دنیا الٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں 
سب کو معلوم ہے تعبیر تو یکساں ہو گی 
خواب ہی دیکھ لیں ہٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں 
ایک کمرے میں سِمٹ آئی ہے ساری🌍دنیا 
رہ گئے خانوں میں بٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں 
یہ مِرا رنگِ تغزل تو نہیں ہے،۔ لیکن 
اک غزل لکھی ہے ہٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں

عقیل عباس جعفری

No comments:

Post a Comment