کورونا وبا کے تناظر میں کہی گئی ایک غزل
رہئیے احباب سے کٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں
سانس بھی لیجیۓ ہٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں
وہ جنہیں خود سے بھی ملنے کی نہیں تھی فرصت
رہ گئے خود میں سمٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں
رونقِ بزمِ جہاں خود کو سمجھنے والے
کیا کسی اور سے اب حرفِ تسلی کہیۓ
روئیے خود سے لپٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں
ایک جھٹکے میں ہوئے شاہ و گدا زیر و زبر
رہ گئی دنیا الٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں
سب کو معلوم ہے تعبیر تو یکساں ہو گی
خواب ہی دیکھ لیں ہٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں
ایک کمرے میں سِمٹ آئی ہے ساری🌍دنیا
رہ گئے خانوں میں بٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں
یہ مِرا رنگِ تغزل تو نہیں ہے،۔ لیکن
اک غزل لکھی ہے ہٹ کر، کہ وبا کے دن ہیں
عقیل عباس جعفری
No comments:
Post a Comment