Friday, 14 August 2020

یہ بات نہیں ہے کہ تجھی سے نہیں ملتا

یہ بات نہیں ہے کہ تجھی سے نہیں مِلتا
اک عمر ہوئی ہے میں کسی سے نہیں ملتا
دنیا سے تو ملتا ہے پتا تیری گلی کا
دنیا کا پتا تیری گلی سے نہیں ملتا
جو سست قدم ہیں وہی پا لیتے ہیں منزل
اس عشق میں کچھ تیز روی سے نہیں ملتا
اس بزم میں جاتا ہوں میں جس شخص سے ملنے
اس بزم میں جا کر میں اسی سے نہیں ملتا
یہ بات بھی آشفتہ سری نے ہی بتائی
کچھ بھی یہاں آشفتہ سری سے نہیں ملتا
فرہاد ہو، رانجھا ہو کہ وامق ہو کہ مجنوں
احوال مِرا ان میں کسی سے نہیں ملتا

عقیل عباس

No comments:

Post a Comment