زخمِ ماضی سے نئی یادِ کسک آتی ہے
تب کہیں جا کے میرے رخ پہ چمک آتی ہے
بوجھ جب اپنا اٹھانے سے وہ تھک جاتی ہے
تب کہیں جا کے وہ شاخوں میں لچک آتی ہے
تیری زلفوں کی کرامات یہاں تک پہنچی
دل کے باجوں🎸 کا ہر تار تھرک اٹھتا ہے
جب بھی پازیب کی کانوں میں کھنک آتی ہے
"میرے زخموں نے کہا "یاد نہ کرنا اس کو
یاد اس کی لیے ہاتھوں میں "نمک" آتی ہے
جب بھی دلؔ ان کو سناتا ہوں وفا کے قصے
بے وفائی میرے دامن میں کھسک آتی ہے
دل سکندر پوری
No comments:
Post a Comment