ڈھونڈتا تو ہے آسمان میں کیا
کم ستارے ہیں خاندان میں کیا
وحشتوں کا گمان ہوتا ہے
کوئی رہتا نہیں مکان میں کیا
طنز کرتے ہو میرے لہجے پر
چاند کے رخ پہ آ گئی سیاہی
ابر گہرا ہے آسمان میں کیا
میرے لہجے کو چومتے کیوں ہو
تم کو اچھی لگی زبان میں کیا
سن کے بستر سمیٹ لیتا ہوں
معجزہ ہے کوئی اذان میں کیا
جو قصیدہ کوئی نہیں پڑھتا
تُو بھی لکھے گا میری شان میں کیا
کیوں سنور کر کے آج بیٹھے ہو
آئینہ رکھ لیا دکان میں کیا؟
پھر کوئی بھوک سے مَرا کیا دل؟
شور و غُل پھر سے ہے مکان میں کیا
دل سکندر پوری
No comments:
Post a Comment