Friday, 14 August 2020

ڈھونڈتا تو ہے آسمان میں کیا

ڈھونڈتا تو ہے آسمان میں کیا
کم ستارے ہیں خاندان میں کیا 
وحشتوں کا گمان ہوتا ہے
کوئی رہتا نہیں مکان میں کیا
طنز کرتے ہو میرے لہجے پر 
کچھ کمی ہے میری اڑان میں کیا
چاند کے رخ پہ آ گئی سیاہی
ابر گہرا ہے آسمان میں کیا
میرے لہجے کو چومتے کیوں ہو
تم کو اچھی لگی زبان میں کیا
سن کے بستر سمیٹ لیتا ہوں
معجزہ ہے کوئی اذان میں کیا
جو قصیدہ کوئی نہیں پڑھتا
تُو بھی لکھے گا میری شان میں کیا
کیوں سنور کر کے آج بیٹھے ہو 
آئینہ رکھ لیا دکان میں کیا؟
پھر کوئی بھوک سے مَرا کیا دل؟  
شور و غُل پھر سے ہے مکان میں کیا

دل سکندر پوری

No comments:

Post a Comment