Monday, 5 July 2021

کنوارے کھیت میری خواہشوں کے

قطرہ قطرہ تشنگی


کنوارے کھیت میری خواہشوں کے

تشنگی کی دُھوپ میں جلتے ہیں

سیم اور تھور مایوسی کے

کالے قہر کی صورت

لہو کا ایک اک قطرہ

رگوں سے چُوستے جاتے ہیں

پیلے موسموں کی چپ

بنی ہے بھاگ کی ریکھا

کہ صدیوں سے پڑا ہے قحط گیتوں کا

جو فصل کٹتے وقت گاتی ہیں تھرکتی ناچتی

بستی کی بالائیں

یہاں صدیوں سے برکھا رُت کو

جیون کا ہر اک لمحہ ترستا ہے

یہاں کھیتوں کے لب کی پپڑیوں پر

تشنگی کا

قطرہ قطرہ بس ٹپکتا ہے


صبا اکرام

No comments:

Post a Comment