ایسا تو نہیں پیر میں چھالا نہیں کوئی
دُکھ ہے کہ یہاں دیکھنے والا نہیں کوئی
تُو شہر میں گِنواتا پِھرا عیب ہمارے
ہم نے تو تِرا نقص اچھالا نہیں کوئی
وہ شخص سنبھالے گا برے وقت میں تجھ کو
جس شخص نے خط تیرا سنبھالا نہیں کوئی
اے عقل! جو تُو نے مِرا نقصان کیا ہے
اب لاکھ بھی تُو چاہے، ازالہ نہیں کوئی
ہیں عام بہت رزق و محبت کے مسائل
دکھ تیرا زمانے سے نرالا نہیں کوئی
بے فیض گزاری ہے یہاں جتنی گزاری
بس اور مِرا خاص حوالہ نہیں کوئی
کومل جوئیہ
No comments:
Post a Comment