Wednesday, 21 July 2021

اپنے ویرانے کا نقصان نہیں چاہتا میں

 اپنے ویرانے کا نقصان نہیں چاہتا میں

یعنی اب دوسرا انسان نہیں چاہتا میں

کٹ گئی جیسی بھی کٹنی تھی یہاں دھوپ کے ساتھ

اب کسی سائے کا احسان نہیں چاہتا میں

مر رہا ہوں میں یہاں اور وہ کہتا ہے مجھے

نا مکمل تِرا ایمان نہیں چاہتا میں

پاس آ کر نہ بڑھا اور پریشانئ دل

پھر کسی عشق کا سامان نہیں چاہتا میں

تُو محبت میں یونہی جان گنوا بیٹھے گا

جا چلا جا کہ تِری جان نہیں چاہتا میں

چاہتا ہوں کہ یہاں پھول کھلے ہوں ہر سو

یعنی یہ جنگ کا میدان نہیں چاہتا میں

میں جو چپ ہوں تو اسے آپ غنیمت جانیں

دیکھیے شہر میں طوفان نہیں چاہتا میں


اظہر عباس

No comments:

Post a Comment