Tuesday, 3 January 2017

پہنچے ہے ہم کو عشق میں آزار ہر طرح

پہنچے ہے ہم کو عشق میں آزار ہر طرح
ہوتے ہیں ہم ستم زدہ، بیمار ہر طرح
ترکیب و طرحِ ناز و ادا سب سے دل لگی
اس طرح دار کے ہیں گرفتار ہر طرح
یوسف کی اس نظیر سے دل کو نہ جمع رکھ
ایسی متاع جاتی ہے بازار ہر طرح
جس طرح میں دکھائی دیا اس سے لگ پڑے
ہم کشت و خوں کے ہیں گے سزاوار ہر طرح
چھپ لک کے بام و در سے گلی کوچے میں سے میؔر
میں دیکھ لوں ہوں یار کو اک بار ہر طرح

میر تقی میر

1 comment:

  1. نازکی انکی لب کی کیا کہیں
    پنکھڑی اک گلاب کی سی ھے
    میر ان نیم باز آنکھوں میں
    ساری مستی شراب کی سی ھے

    ReplyDelete