پہنچے ہے ہم کو عشق میں آزار ہر طرح
ہوتے ہیں ہم ستم زدہ، بیمار ہر طرح
ترکیب و طرحِ ناز و ادا سب سے دل لگی
اس طرح دار کے ہیں گرفتار ہر طرح
یوسف کی اس نظیر سے دل کو نہ جمع رکھ
جس طرح میں دکھائی دیا اس سے لگ پڑے
ہم کشت و خوں کے ہیں گے سزاوار ہر طرح
چھپ لک کے بام و در سے گلی کوچے میں سے میؔر
میں دیکھ لوں ہوں یار کو اک بار ہر طرح
میر تقی میر
نازکی انکی لب کی کیا کہیں
ReplyDeleteپنکھڑی اک گلاب کی سی ھے
میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ھے