Sunday, 4 July 2021

جب ترے بے قرار روتے تھے

 جب تِرے بے قرار روتے تھے

ہم بھی زار و قطار روتے تھے

ہر گھڑی غم کی دستیابی تھی

دن میں دو چار بار روتے تھے

دشت ہنستا تھا پانیوں کی طرح

اور دریا غبار روتے تھے

اب وہاں لوگ مسکراتے ہیں

ہم جہاں زار زار روتے تھے

وہ تحمل سے بات سنتا تھا

اور ہم بار بار روتے تھے


تجمل کاظمی

No comments:

Post a Comment