تعبیر کے بغیر جو سپنے دکھائے ہیں
جھوٹی تسلیوں سے ہی بچے سلائے ہیں
خاکی بدن کا مرتبہ پہچانیے حضور
اس کے لیے خدا نے فرشتے جھکائے ہیں
شاید اجل کھڑی ہے مسیحا کی آڑ میں
تیمار داری کے لیے کچھ لوگ آئے ہیں
ان بستیوں سے اُٹھتا دُھواں خوفناک ہے
سب نے خطوں سميت بدن بھی جلائے ہیں
غرقاب ہو گیا ہے انہی ميں مِرا وجود
جو عمر بھر فِراق ميں آنسو بہائے ہیں
ايہاب شريف
No comments:
Post a Comment