Sunday, 4 July 2021

تعبیر کے بغیر جو سپنے دکھائے ہیں

 تعبیر کے بغیر جو سپنے دکھائے ہیں

جھوٹی تسلیوں سے ہی بچے سلائے ہیں

خاکی بدن کا مرتبہ پہچانیے حضور

اس کے لیے خدا نے فرشتے جھکائے ہیں

شاید اجل کھڑی ہے مسیحا کی آڑ میں

تیمار داری کے لیے کچھ لوگ آئے ہیں

ان بستیوں سے اُٹھتا دُھواں خوفناک ہے

سب نے خطوں سميت بدن بھی جلائے ہیں

غرقاب ہو گیا ہے انہی ميں مِرا وجود

جو عمر بھر فِراق ميں آنسو بہائے ہیں


ايہاب شريف

No comments:

Post a Comment