سمے کے ساتھ خرابوں سے خم نکلتا ہے
ہمارے جیسوں کا مشکل سے دم نکلتا ہے
میں جس کے ساتھ زرا سا بھی کُھلنے لگتا ہوں
عجیب دُکھ ہے، وہی محترم نکلتا ہے
یہ کربلا ہے میاں، دل کی ہر دعا مانگو
یہاں سے صرف کرم ہی کرم نکلتا ہے
میں چند ایسے چراغوں کا نام لیوا ہوں
کہ جن کے آگے ہوا کا بھرم نکلتا ہے
سو تم مجھے یہ بتاؤ گے اب، وفا کیا ہے
تمہیں پتا ہے؟ مِرے گھر عَلم نکلتا ہے
تراب گردیزی
No comments:
Post a Comment