Sunday, 4 July 2021

سمے کے ساتھ خرابوں سے خم نکلتا ہے

 سمے کے ساتھ خرابوں سے خم نکلتا ہے

ہمارے جیسوں کا مشکل سے دم نکلتا ہے

میں جس کے ساتھ زرا سا بھی کُھلنے لگتا ہوں

عجیب دُکھ ہے، وہی محترم نکلتا ہے

یہ کربلا ہے میاں، دل کی ہر دعا مانگو

یہاں سے صرف کرم ہی کرم نکلتا ہے

میں چند ایسے چراغوں کا نام لیوا ہوں

کہ جن کے آگے ہوا کا بھرم نکلتا ہے

سو تم مجھے یہ بتاؤ گے اب، وفا کیا ہے

تمہیں پتا ہے؟ مِرے گھر عَلم نکلتا ہے


تراب گردیزی

No comments:

Post a Comment