Friday, 16 July 2021

جاگنا راتوں میں یادوں کے بھنور میں ڈوبنا

جاگنا راتوں میں یادوں کے بھنور میں ڈوبنا

وہ دل مضطر کا سیل چشم تر میں ڈوبنا

پہلے اپنے نفس کی مسمار کرنی ہے فصیل

اور اس کے بعد ہے کار دگر میں ڈوبنا

بھر لیا آنکھوں میں دریاؤں کو دریا کے لیے

سخت مشکل ہو گیا پانی کے گھر میں ڈوبنا

اور ہوں گے وہ جنہیں دنیا کا ہو خوف و ہراس

ہم نے سیکھا ہی نہیں دنیا کے ڈر میں ڈوبنا

آبلہ پائی کا موسم راس آ جاتا اگر

کام آ جاتا مِرا گرد سفر میں ڈوبنا

ڈوب کے ابھرے ہیں ہم دنیا کے ہر منجدھار سے

اب رہا باقی فقط نقد و نظر میں ڈوبنا

دوسروں کی عیب جوئی جس قدر آسان ہے

اتنا ہی دشوار ہے خود کی نظر میں ڈوبنا

جانے کس منزل پہ لے جائے تجھے جذب جنوں

ہر قدم نجمی! تِرا نقد و نظر میں ڈوبنا


م ش نجمی

محمد شفیق نجمی

No comments:

Post a Comment