شجر پہ تو نہ نم تلک بھی نقدِ زر دیا گیا
یہ کیا، سوار دوش پر ہوا کے کر دیا گیا
یہ اور بات رہنما بجز شغال کچھ نہیں
ہمیں دیا گیا ہے جو بھی شیرِ نر دیا گیا
ہمِیں ہیں، عزم کے سوا جنہیں نہ کچھ عطا ہوا
جنہیں بہم ہے برتری وہ ہم سے بس یہی کہیں
جھکے تو ہو فراز تر، ہمیں وہ سر دیا گیا
کبھی نہ ہم نے آنکھ کھول کر نگاہ کی کہیں
یہ ہم جنہیں کبوتروں سا نامہ بر دیا گیا
کھلی ہے جب بھی آنکھ دہشتیں پڑی ہیں دیکھنی
ہمیں نہ کوئی اور مژدۂ سحر دیا گیا
تجھے ہے ماجدِؔ حزیں عطا وہ لطفِ خاص ہے
ولایتوں سے کم نہیں جو فکرِ تر دیا گیا
ماجد صدیقی
No comments:
Post a Comment