شکستِ ساز
مدتوں ان کو فقط ان کو سنانے کے لیے
گیت گائے دلِ آشفتہ نوا نے اے دوست
پر انہیں گوشِ توجہ سے نوازا نہ گیا
ناشنیدہ ہی رہے اپنے فسانے اے دوست
عشق بے چارہ کو محروم نوا چھوڑ کے وہ
پھر کبھی فرصتِ اظہارِ تمنا نہ ہوئی
ناشنیدہ ہی رہے دل کے فسانے اے دوست
اب وہ لوٹے ہیں تو کہتے ہیں جگا سکتے ہیں
دل کو تجدیدِ محبت کے بہانے اے دوست
ان سے کہہ دو کہ وہ تکلیفِ مروت نہ کریں
اب نہ پھوٹیں گے کبھی اس سے ترانے اے دوست
ان سے کہہ دو کہ بڑی دیر سے خاموش ہے ساز
ابن انشا
No comments:
Post a Comment