طبیعت نے عجب کل یہ ادا کی
کہ ساری رات وحشت ہی رہا کی
نمائش داغ سودا کی ہے سر سے
بہار اب ہے جنوں کی ابتدا کی
نہ ہو گلشن ہمارا کیونکہ بلبل
مجھی کو ملنے کا ڈھب کچھ نہ آیا
نہیں تقصیر اس نا آشنا کی
گئے جل حر عشقی سے جگر دل
رہی تھی جان سو برسوں جلا کی
انہی نے پردے میں کی شوخ چشمی
بہت ہم نے تو آنکھوں کی حیا کی
ہوا طالع جہاں خورشید دن ہے
تردد کیا ہے ہستی میں خدا کی
پیام اس گل کو پہونچا پھر نہ آئی
نہ خوش آئی میاں گیری صبا کی
سبب حیرت کا ہے اس کا توقف
سبک پا واں یہ اب تک کیا کیا کی
جفائیں سہیے گا کہتے تھے اکثر
ہماری عمر نے پھر گر وفا کی
جواں ہونے کی اس کی آرزو تھی
سو اب بارے ہمیں سے یہ جفا کی
گیا تھا رات دروازے پہ اس کے
فقیرانہ دعا کر جو صدا کی
لگا کہنے کہ یہ تو ہمنشیناں
صدا ہی دل خراش اس ہی گدا کی
رہا تھا دیکھ جو پہلے نگہ کر
ہمارے میؔر دل میں ان نے جا کی
ملا اب تو نہ وہ ملنا تھا اس کا
نہ ہم سے دیر آنکھ اس کی ملا کی
میر تقی میر
No comments:
Post a Comment