آلام کی یورش میں بھی خورسند رہے ہیں
نیرنگئ حالات کے پابند رہے ہیں
آفاق میں گونجی ہے مِری شعلہ نوائی
نالے مِرے افلاک کا پیوند رہے ہیں
ڈالی ہیں تِرے خاک نشینوں نے کمندیں
ہر دور میں دیکھا ہے مِری فکرِ رسا نے
کچھ لوگ زمانے کے خداوند رہے ہیں
ساغؔر نہ ملی منزلِ مقصود خِرد کو
ہاں قافلہ سالار جنوں مند رہے ہیں
ساغر صدیقی
No comments:
Post a Comment