دن کٹ گئے جنوں کے آلام کے سہارے
سب کام چل گئے ہیں اک جام کے سہارے
بے چینیوں کی منزل، بے تابیوں کی راہیں
کیا ڈھونڈتا ہے اے دل آرام کے سہارے
حسرت سے دیکھتا ہوں مجروح عشرتوں کو
اے سنگ دل زمانے! رودادِ عاشقی کا
آغاز کر دیا ہے انجام کے سہارے
تِرے گیسوؤں کے سائے مِری زندگی کا عنوان
مِری شاعری فروزاں تِرے نام کے سہارے
مایوسیوں کی مے سے مخمور ہو گئے ہیں
ٹوٹے ہوئے سبو ہیں اب کام کے سہارے
کعبہ کے پتھروں کی اک داستاں ہے یارو
تقدیرِ بندگی ہیں اصنام کے سہارے
کتنی تجلیوں سے گھر جل رہے ہیں ساغؔر
کتنی حقیقتیں ہیں اوہام کے سہارے
ساغر صدیقی
No comments:
Post a Comment