Sunday, 8 January 2017

اس تیرگی میں کیا ہے مقابل کہا نہ جائے

طے ہوں گے کس طرح یہ مراحل کہا نہ جائے
اس تیرگی میں کیا ہے مقابل کہا نہ جائے
خود دے دئیے ہیں میں نے اسے ہاتھ کاٹ کر
وہ لکھ دیا ہے جو سرِ محفل کہا نہ جائے
پتھر ہوئے وہ لفظ کہ تھے جیتے جاگتے
اس خامشی سے کیا ہوا حاصل کہا نہ جائے
اب تک تو چل رہے ہیں تِرے ساتھ ساتھ ہم
آئے گی کس جگہ حد فاصل کہا نہ جائے
نشہ ہے یا کہ زہر فضا میں ملا ہوا
کچھ ہے ہر ایک چیز میں شامل کہا نہ جائے
آخر کہیں تو بیٹھ گئے پاؤں توڑ کر
پھر کیا کہیں گے گر اسے منزل کہا نہ جائے
یہ اور بات کچھ بھی دکھائی نہ دے سکے
آنکھیں کھلی ہوئی ہوں تو غافل کہا نہ جائے

شہزاد احمد

No comments:

Post a Comment