Monday, 9 January 2017

کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے

کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے
ان کا راستہ تکتے تکتے نین ہمارے ہار گئے
کانٹوں کے دکھ سہنے میں تسکین بھی تھی آرام بھی تھا
ہنسنے والے بھولے بھالے پھول چمن کے مار گئے
ایک لگن کی بات ہے جیون ایک لگن ہی جیون ہے
پوچھ نہ کیا کھویا کیا پایا، کیا جیتے، کیا ہار گئے
آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو
یہ برکھا برساۓ دن تو بِن پریتم بے کار گئے
جب بھی لوٹے پیاسے لوٹے پھول نہ پا کر گلشن میں
بھنورے امرت رس کی دھن میں پل پل سو سو بار گئے
ہم سے پوچھو ساحل والو! کیا بیتی دکھیاروں پر
کھیون ہارے بیچ بھنور میں چھوڑ کے جب اس پار گئے

حبیب جالب

No comments:

Post a Comment