چمن کی یہ کیسی ہوا ہو گئی
کہ صرصر سے بدتر صبا ہو گئی
عیادت کو آئے شفا ہو گئی
علالت ہماری دوا ہو گئی
وہ اٹھے تو لاکھوں ہی فتنے اٹھے
محبت کی گرمی بھی کیا چیز ہے
طبیعت مِری کیا سے کیا ہو گئی
لگاوٹ بہت ہے تیری آنکھ میں
اسی سے تو یہ فتنہ زا ہو گئی
بتوں نے بھُلایا جو دل سے مجھے
مِرے ساتھ یادِ خدا ہو گئی
انہیں نے عطا کی تھی جانِ حزیں
ہوا خوب انہیں پر فدا ہو گئی
بتوں کو محبت نہ ہوتی مِری
خدا کا کرم ہو گیا، ہو گئی
اشارہ کیا بیٹھنے کا مجھے
عنایت کی آج انتہا ہو گئی
دوا کیا کہ وقتِ دعا بھی نہیں
تِری حالت اکبؔر یہ کیا ہو گئی
اکبر الہ آبادی
No comments:
Post a Comment