Monday, 9 January 2017

تمہارے جانے کے بعد میں نے

تمہارے جانے کے بعد میں نے
وہ شام آنچل میں باندھ لی
اور اس کی خوشبو کے ساتھ
باقی تمام شب اس طرح بسر کی
کہ جیسے بارش کے بازوؤں میں
بہار کی اولیں کونپل
تمہارے لہجے کی نرم شبنم
مجھے بھگوتی رہی ہے شب بھر
تمہاری باتوں کی سبز مہکار اپنے اندر
مجھے سموتی رہی ہے شب بھر
تمہارے ہاتھوں کا لمسِ پیہم
مِرے بدن کو گلاب کرتا رہا ہے شب بھر
زمین کو ماہتاب کرتا رہا ہے شب بھر

پروین شاکر

No comments:

Post a Comment