Monday, 9 January 2017

محفل میں جل اٹھی شمع پروانے کے لیے

فلمی گیت

محفل میں جل اٹھی شمع پروانے کے لیے
پریت بنی ہے دنیا میں مر جانے کے لیے
محفل میں جل اٹھی شمع پروانے کے لیے
پریت بنی ہے دنیا میں مر جانے کے لیے

چاروں طرف لگائے پھیرے پھر بھی ہر دم دور رہے
الفت دیکھو آگ بنی ہے، ملنے سے مجبور رہے
یہی سزا ہے دنیا میں دیوانے کے لیے
پریت بنی ہے دنیا میں مر جانے کے لیے
محفل میں جل اٹھی شمع پروانے کے لیے

مرنے کا ہے نام محبت، جلنے کا ہے نام جوانی
پتھر دل ہیں سننے والے کہنے والا آنکھ کا پانی
آنسو آئے آنکھوں میں گر جانے کے لیے
پریت بنی ہے دنیا میں مر جانے کے لیے
محفل میں جل اٹھی شمع پروانے کے لیے

پی ایل سنتوشی
(پیارے لال سنتوشی)

No comments:

Post a Comment