افسانہ چاہتے تھے وہ، افسانہ بن گیا
میں حسنِ اتفاق سے دیوانہ بن گیا
وہ اک نگاہ دیکھ کے خود بھی ہیں شرمسار
نا آگہی میں یونہی اک افسانہ بن گیا
موجِ ہوا سے زلف جو لہرا گئی تِری
حسن ایک اختیارِ مکمل ہے، آپ نے
دیوانہ کر دیا جسے، دیوانہ بن گیا
ذکر اس کا گفتگو میں جو شامِل ہوا عدؔم
جو شعر کہہ دیا، وہ پری خانہ بن گیا
عبدالحمید عدم
No comments:
Post a Comment