گلیوں میں گھومنے کے بہانے عجیب ہیں
دل کے مریض تشنۂ روئے طبیب ہیں
ہر روز تجھ کو دیکھ تو سکتے ہیں نامراد
تیری گلی کے لوگ بڑے خوش نصیب ہیں
زریں نصیحتیں ہیں فقط ان کی جائیداد
میں آج تک نہیں یہ پہیلی سمجھ سکا
میرے نصیب کس لیے میرے رقیب ہیں
شاید انہیں بھی تھا تِری آمد کا علم کچھ
اس مرتبہ چمن میں بہت عندلیب ہیں
اب کیا رفو کرانا گریباں کے چاک کو
اب تو عدمؔ بہار کے دن پھر قریب ہیں
عبدالحمید عدم
No comments:
Post a Comment