Tuesday, 3 January 2017

گلیوں میں گھومنے کے بہانے عجیب ہیں

گلیوں میں گھومنے کے بہانے عجیب ہیں
دل کے مریض تشنۂ روئے طبیب ہیں
ہر روز تجھ کو دیکھ تو سکتے ہیں نامراد
تیری گلی کے لوگ بڑے خوش نصیب ہیں
زریں نصیحتیں ہیں فقط ان کی جائیداد
میرے مشیر مجھ سے زیادہ غریب ہیں
میں آج تک نہیں یہ پہیلی سمجھ سکا
میرے نصیب کس لیے میرے رقیب ہیں
شاید انہیں بھی تھا تِری آمد کا علم کچھ
اس مرتبہ چمن میں بہت عندلیب ہیں
اب کیا رفو کرانا گریباں کے چاک کو
اب تو عدمؔ بہار کے دن پھر قریب ہیں

عبدالحمید عدم

No comments:

Post a Comment