پرندے لوٹ رہے تھے گھروں کی سمت مگر
ہوا کا رخ تھا شکستہ پروں کی سمت مگر
چھتوں پہ کتنا چراغاں تھا اب کے جشن کی رات
وہ دیکھنا مِرا بجھتے دروں کی سمت مگر
کشادہ دل تھے کئی لوگ یوں تو مقتل میں
بدن پر آئینے اوڑھے وہ لوگ آئے تھے
مِرا خیال رہا پتھروں کی سمت مگر
میں بڑھ رہا تھا تِرے دشمنوں سے لڑنے کو
تِرا عذاب مِرے لشکروں کی سمت مگر
وہ اک نگر تھا کہ بازارِ مصر تھا محسنؔ
کوئی نظر نہ اٹھی دلبروں کی سمت مگر
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment