Friday, 13 January 2017

پرندے لوٹ رہے تھے گھروں کی سمت مگر

پرندے لوٹ رہے تھے گھروں کی سمت مگر
ہوا کا رخ تھا شکستہ پروں کی سمت مگر
چھتوں پہ کتنا چراغاں تھا اب کے جشن کی رات
وہ دیکھنا مِرا بجھتے دروں کی سمت مگر
کشادہ دل تھے کئی لوگ یوں تو مقتل میں
بڑھے ہیں تیر ہمارے سروں کی سمت مگر
بدن پر آئینے اوڑھے وہ لوگ آئے تھے
مِرا خیال رہا پتھروں کی سمت مگر
میں بڑھ رہا تھا تِرے دشمنوں سے لڑنے کو
تِرا عذاب مِرے لشکروں کی سمت مگر
وہ اک نگر تھا کہ بازارِ مصر تھا محسنؔ
کوئی نظر نہ اٹھی دلبروں کی سمت مگر

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment