جس وقت اس نے بخت ہمارے بنائے تھے
میلی ہتھیلیوں پہ ستارے بنائے تھے
کچھ پنچھیوں نے گھونسلے پیڑوں کے جھنڈ میں
اونچی جگہوں پہ خوف کے مارے بنائے تھے
حسبِ مراد دستِ ہنر بولنے لگا
میں نے بس ایک نہر نکالی تھی ہاتھ سے
دریا نے آپ اپنے کنارے بنائے تھے
ہم نے حیا پہن کے محبت شعار کی
گڑیوں کے واسطے بھی غرارے بنائے تھے
دل میں نسیؔم حسن کی تکفیل کے لیے
آنکھوں نے کیسے کیسے ادارے بنائے تھے
نسیم عباسی
No comments:
Post a Comment