در و دیوار سے اٹھتا ہے دھواں، خیر نہیں
شہر کا رنگ بتاتا ہے، یہاں خیر نہیں
نام تو خیر "خدا" کا ہی رہے گا باقی
یہ جو ہونے لگی بے وقت اذاں، خیر نہیں
تم سے کیا شہر کے حالات کی تفصیل کہوں
معرکہ شہر میں اب زندگی اور موت کا ہے
ختم ہونے کو ہے اب سود و زیاں، خیر نہیں
برق کو روند کے آتی ہے یہاں جس کی آواز
پھر سرِ بزم ہے وہ شعلہ بیاں، خیر نہیں
یوں نہ ہم خاک نشینوں پہ گراؤ بجلی
گر بھڑک اٹھا کوئی سوختہ جاں، خیر نہیں
پھر بھی ہم کہنے کی ہمت نہیں رکھتے جاذب
گرچہ ہم دل میں سمجھتے ہیں کہ ہاں خیر نہیں
شکیل جاذب
No comments:
Post a Comment