Friday, 14 August 2020

گرد مجنوں لے کے شاید باد صحرا جائے ہے

گردِ مجنوں لے کے شاید بادِ صحرا جائے ہے
جانے کس وحشت میں بستی کو بگولا جائے ہے
میں نہ کہتا تھا کہ لازم ہے نِگہ بھر فاصلہ
جب بہت نزدیک ہو تو عکس دھندلا جائے ہے
کیا کروں اے تشنگی! تیرا مداوا، بس وہ لب
جن لبوں کو چھو کے پانی آگ بنتا جائے ہے
خوف کا مفہوم پہلی بار سمجھا عشق میں
بات ہوتی کچھ نہیں اور جان کو آ جائے ہے
لے جہاں کو تج دیا، لے کھینچ ڈالی اپنی کھال
اب اسی معیار پر عاشق کو پرکھا جائے ہے

شکیل جاذب

No comments:

Post a Comment