Friday, 14 August 2020

گردش میں زہر بھی ہے مسلسل لہو کے ساتھ

گردش میں زہر بھی ہے مسلسل لہو کے ساتھ
مرتا بھی جا رہا ہوں میں اپنی نمو کے ساتھ
جن موسموں میں تیری رفاقت تھی ناگزیر
تُو نے رُتیں بنائی ہیں وہ بھی عدو کے ساتھ
مجھ کو عطا ہوا ہے یہ کیسا لباسِ زیست
بڑھتے ہیں جس کے چاک برابر رفو کے ساتھ
مجھ کو وہی ملا، مجھے جس کی طلب نہ تھی
مشروط کچھ نہیں ہے یہاں آرزو کے ساتھ
اب جامِ جَم سے لوگ یہاں مطمئن نہیں
جاذب گزر رہی ہے شکستہ سبو کے ساتھ

شکیل جاذب

No comments:

Post a Comment