Saturday, 15 August 2020

شام میری کمزوری ہے

شام میری کمزوری ہے

مت پوچھ مجھ سے دوست مِرے
کیوں شام ڈھلے ان آنکھوں میں
بے نام سی اک اداسی کی
گھنگھور گھٹائیں رہتی ہیں

٭
کیوں بے خود ہو کر اس لمحے
ڈھلتا ہوا سورج تکتا ہوں
آنکھوں میں کسی کا عکس لیے
کیوں بند کتابیں تکتا ہوں
٭
مت پوچھ وقت ہی ایسا ہے
مجھے دل پہ زور نہیں رہتا ہے
میں لاکھ چھپاتا ہوں لیکن
اشکوں کو روک نہیں سکتا
٭
اک قرض چکانے کی خاطر
یہ کچھ لمحوں کی چوری ہے
بس یوں ہی سمجھ لے یار مِرے
یہ شام میری کمزوری ہے
٭
شکیل جاذب

No comments:

Post a Comment