شام میری کمزوری ہے
مت پوچھ مجھ سے دوست مِرے
کیوں شام ڈھلے ان آنکھوں میں
بے نام سی اک اداسی کی
گھنگھور گھٹائیں رہتی ہیں
٭
کیوں بے خود ہو کر اس لمحے
ڈھلتا ہوا سورج تکتا ہوں
آنکھوں میں کسی کا عکس لیے
٭
مت پوچھ وقت ہی ایسا ہے
مجھے دل پہ زور نہیں رہتا ہے
میں لاکھ چھپاتا ہوں لیکن
اشکوں کو روک نہیں سکتا
٭
اک قرض چکانے کی خاطر
یہ کچھ لمحوں کی چوری ہے
بس یوں ہی سمجھ لے یار مِرے
یہ شام میری کمزوری ہے
٭
شکیل جاذب
No comments:
Post a Comment