Friday, 14 August 2020

یہ حکم ہے کہ محبت کی آرزو نہ کرو

یہ حکم ہے کہ محبت کی آرزو نہ کرو
سراغِ یار بھی پاؤ تو جستجو نہ کرو
کہاں کہاں پہ نہیں ان کا انتظامِ نظر
شکستِ شوق کی دل سے بھی گفتگو نہ کرو
یہ بزم قتل گہِ عاشگان سہی، لیکن
بپاسِ عشق کسی زخم کو رفو نہ کرو
یہاں تجارتِ خوں ہے، یہاں شراب کہاں
یہاں پہ تذکرۂ بادہ و🍷 سبو نہ کرو

ظہیر کاشمیری

No comments:

Post a Comment