یہ حکم ہے کہ محبت کی آرزو نہ کرو
سراغِ یار بھی پاؤ تو جستجو نہ کرو
کہاں کہاں پہ نہیں ان کا انتظامِ نظر
شکستِ شوق کی دل سے بھی گفتگو نہ کرو
یہ بزم قتل گہِ عاشگان سہی، لیکن
یہاں تجارتِ خوں ہے، یہاں شراب کہاں
یہاں پہ تذکرۂ بادہ و🍷 سبو نہ کرو
ظہیر کاشمیری
No comments:
Post a Comment