جو مجھے مرغوب ہو وہ سوگواری چاہئے
میرے سوئم میں تمہیں پوشاک بھاری چاہئے
تازہ ہو باغ تمنا،۔ آبیاری چاہئے
آج تو اے چشم تر کچھ اشکباری چاہئے
جب بہار آئے تو کب پرہیزگاری چاہئے
دل جگر سے جب میں کہتا ہوں نہیں آئے گا یار
کہتے ہیں کچھ دیر تو اور انتظاری چاہئے
ہوں حواس و ہوش اگر باقی تو کیا لطف جنوں
دل نہ قابو میں ہو وہ بے اختیاری چاہئے
راس آئے تم کو ملک عشق کی آب و ہوا
عاشقو! ہر وقت شغل آہ و زاری چاہئے
وصل کی شب ہے وہ پہلو میں ہیں تو سونے نہ دے
ہاں مِرے دل اب زیادہ بے قراری چاہئے
موت بے کار آتی ہے مرنا ہمارا ہے محال
آپ کی تلوار کا اک زخم کاری چاہئے
روتے روتے مر گئے ہیں جو فراق یار میں
ان کو بہر غسل میت آب جاری چاہئے
سیکھی ان سے دلربائی آ گئی فصل شباب
آج کل دل کی طرف سے ہوشیاری چاہئے
سر نہ اٹھے تیری چوکھٹ سے نہ کوچے سے قدم
طوق بھاری چاہئے،۔ زنجیر بھاری چاہئے
ہو زیادہ روشنی اور دیر تک باقی رہے
میری شمع روح کو محفل تمہاری چاہئے
تیرے چہرے کے مقابل ہو اگر تو اس طرح
آفتاب حشر کو آئینہ داری چاہئے
یہ تمہاری جا نہیں آنکھوں کے وا سے ہیں یہ در
دل میں دوں تم کو جگہ یہ پردہ داری چاہئے
بخش دیتا ہے رشید! اللہ اتنی بات پر
کر کے عصیاں آدمی کو شرمساری چاہئے
رشید لکھنوی
No comments:
Post a Comment