Saturday, 3 April 2021

سر جگاتی ہوئی آواز پہ مائل نہ ہوا

 سُر جگاتی ہوئی آواز پہ مائل نہ ہوا

ایسا پتھر تھا کسی ساز پہ مائل نہ ہوا

اس نے زندان کا دروازہ کھُلا چھوڑ دیا

میں رہا ہو کے بھی پرواز پہ مائل نہ ہوا

خوفِ انجام سے نیت میں کئی چھید ہوئے

اور دل، ربط کے آغاز پہ مائل نہ ہوا

حضرتِ عشق نے معیار پہ سودا نہ کیا

پر یقیں حُسنِ دغا باز پہ مائل نہ ہوا

شکریہ، بندِ قبا کھول کے بیٹھی دنیا

معذرت، دل تیرے انداز پہ مائل نہ ہوا


مصطفیٰ جاذب

No comments:

Post a Comment