Thursday, 8 April 2021

بچا لیا ہے چلو کچھ بھرم رکے ہوئے ہیں

 بچا لیا ہے چلو کچھ بھرم رُکے ہوئے ہیں

ہمارا شکر بجا لا کہ ہم رکے ہوئے ہیں

ہمیں خوشی ہے کسی ضابطے میں آ تو گئے

چلے نہیں ہیں مگر کم سے کم رکے ہوئے ہیں

رکیں وہ جن کو خبر ہے یہیں پہ رکنا تھا

نکال دو جو برائے کرم رکے ہوئے ہیں

تمہیں حیا بھی نہیں آتی اپنے چلنے پر

طواف بند ہے اہلِ حرم رکے ہوئے ہیں

تِرے علاوہ قدم تک نہیں اٹھائیں گے

رکے ہوئے ہیں، خدا کی قسم رکے ہوئے ہیں

وہیں سے آگے ہیں رستے ہمارے چلنے کے

زمانے بھر کے جہاں پر قدم رکے ہوئے ہیں


دانش نقوی

No comments:

Post a Comment