غور تو کیجے کہ یہ سجدہ روا کیوں کر ہوا
اس نے جب کچھ ہم سے مانگا تو خدا کیونکر ہوا
اے نگاہِ شوق! اس چشمِ فسوں پرداز میں
وہ جو اک پندار تھا آخر حیا کیوں کر ہوا
اک ترازو عشق کے ہاتھوں میں بھی جب ہے تو وہ
عالمِ سُود و زیاں سے ماوراء کیوں کر ہوا
دین و دانش دونوں ہی ہر موڑ پر تھے دل کے ساتھ
یک بیک دیوانہ دونوں سے خفا کیوں کر ہوا
رہزنوں کے غول ادھر تھے رہبروں کی بھیڑ ادھر
آ گئے منزل پہ ہم یہ معجزہ کیوں کر ہوا
خارزارِ دین و دانش، لالہ زارِ حسن و عشق
دل کی اک وحشت سے طے یہ مرحلہ کیونکر ہوا
اپنے ذہنی زلزلوں کا نام جو رکھ لو مگر
دو دلوں کا اک تصادم سانحہ کیونکر ہوا
تیری محرومی اسے جو بھی کہے لیکن جمیل
غیر سے اس نے وفا کی بے وفا کیوں کر ہوا
جمیل مظہری
No comments:
Post a Comment