ایک تو بے بسی اضافی ہے
اور پھر زندگی اضافی ہے
آنکھ میں آنسوؤں نے بَین کیا
لب پہ میرے ہنسی اضافی ہے
یہ خوشی، مسکراہٹیں، رونق
ان دنوں یہ سبھی اضافی ہے
یار یہ کیا کہ تیرے ہوتے ہوئے
مجھ میں تیری کمی اضافی ہے
درد اَجداد سے مِلا ہے کچھ
اور پھر شاعری اضافی ہے
بھُول بیٹھے تجھے صبا احباب
تُو انہیں واقعی اضافی ہے
صبا تابش
No comments:
Post a Comment