Thursday, 8 April 2021

یہ ہجر لگنے لگا عارضی جدائی مجھے

 یہ ہجر لگنے لگا عارضی جدائی مجھے 

کئی مہینوں کے بعد اس کی کال آئی مجھے 

ہزار ذائقے اس رس بھری زبان میں تھے 

جب اس نے میری غزل رات بھر سنائی مجھے 

میں سگرٹوں کی طرح دیر تک سُلگتا رہوں 

جلائے تیرے لبوں کی دِیا سلائی مجھے

اسے خبر ہوئی بیمار مر گیا ہے تیرا

وہ چھوڑ چھاڑ کے سب دیکھنے کو آئی مجھے

شفا نصیب سے ملتی ہے سو ملے نہ ملے

تمہارے ہاتھ سے ملتی رہے دوائی مجھے


شبیر احمد حمید

No comments:

Post a Comment