یہ ہجر لگنے لگا عارضی جدائی مجھے
کئی مہینوں کے بعد اس کی کال آئی مجھے
ہزار ذائقے اس رس بھری زبان میں تھے
جب اس نے میری غزل رات بھر سنائی مجھے
میں سگرٹوں کی طرح دیر تک سُلگتا رہوں
جلائے تیرے لبوں کی دِیا سلائی مجھے
اسے خبر ہوئی بیمار مر گیا ہے تیرا
وہ چھوڑ چھاڑ کے سب دیکھنے کو آئی مجھے
شفا نصیب سے ملتی ہے سو ملے نہ ملے
تمہارے ہاتھ سے ملتی رہے دوائی مجھے
شبیر احمد حمید
No comments:
Post a Comment