Thursday, 1 April 2021

کسی کے دل کی دنیا ہوئی برباد کیونکر

 کسی کے دل کی دنیا ہوئی برباد کیونکر

کوئی گم گشتہ قصہ سنا دو اے ستمگر

تبسم راکھ صورت ہوا میں اڑ گیا ہے

رکو کہ لوٹ جائے گا طوفان جانبِ گھر

چراغِ آرزو کی بڑی مدھم سی لو تھی

مزار حسرتوں پہ چڑھا دو غم کی چادر

کئی بے نام رستے کئی گمنام چہرے

تلاش حق میں چلتے چلے جاتے ہیں در در

عیاں ہیں نیتیں بھی تماشا چل رہا ہے

بہت روئے سبھی جب کٹا شبیرؑ کا سر

اصول بندگی ہے بس اک معبودِ بر حق

سو رکھ دیئے صنم ہی خدا کے گھر میں لا کر

جہل پرور زمانہ سہل طبیعت نفس ہیں

ہے گہرا خواب غفلت اور پانی سر سے اوپر


فضہ بتول

No comments:

Post a Comment