جہاں رقص کرتے اجالے ملے
وہیں دل کے ٹوٹے شوالے ملے
نہ پوچھو بہاروں کے رحم و کرم
کہ پھولوں کے ہاتھوں میں چھالے ملے
مِری تیرہ بختی اور ان کی ہنسی
نہ کچھ موتیوں کی کمی تھی، مگر
بھنور سے ہمیں صرف ہالے ملے
میں وہ روشنی کا نگر ہوں جہاں
چراغوں کے چہرے بھی کالے ملے
ہماری وفائیں ٹھٹھرتی رہیں
تمہیں رحمتوں کے دو شالے ملے
تھی راہیؔ کی منزل بھی سب سے الگ
اسے ہم سفر بھی نرالے ملے
سوہن راہی
No comments:
Post a Comment