تنِ بے جان میں اب جان کہاں سے آئے
اس کھنڈر میں کوئی مہمان کہاں سے آئے
شعرسا حسنِ توازن ہے تِرے پیکر میں
تُو غزل ہے، تِرا عنوان کہاں سے آئے
رابطہ دل سے معطل تھا مِری سوچوں کا
عشق شعلوں کا سفر، عشق ضرر کا سودا
مرحلے عشق کے آسان کہاں سے آئے
دشتِ پُر ہول میں اب کوئی جناور بھی نہیں
اس کڑے وقت میں انسان کہاں سے آئے
شہرِ عفریت زدہ! میں تجھے دھونی دیتا
مسئلہ یہ ہے کہ لوبان کہاں سے آئے
سعید دوشی
No comments:
Post a Comment