Tuesday, 10 January 2017

کاش اب کے بھی ملاقات میں مدت پڑ جائے

کاش اب کے بھی ملاقات میں مدت پڑ جائے
یوں مجھے تجھ سے جدا رہنے کی عادت پڑ جائے
دامن ایسا بھی کہاں ہے مِرا براق سفید
اب اگر اس پہ کوئی داغِ محبت پڑ جائے
اپنا اسباب ہی ہجرت میں اٹھانا ہے محال
اس پہ احباب کا بھی بارِ امانت پڑ جائے
لشکرِ جرم تو کام اپنا کرے بے تعطیل
آئے دن دفترِ انصاف میں رخصت پڑ جائے
بس یہی سوچ کے دشمن سے رعایت برتی
شاید ایسے ہی محبت کی روایت پڑ جائے

سعید دوشی

No comments:

Post a Comment