کاش اب کے بھی ملاقات میں مدت پڑ جائے
یوں مجھے تجھ سے جدا رہنے کی عادت پڑ جائے
دامن ایسا بھی کہاں ہے مِرا براق سفید
اب اگر اس پہ کوئی داغِ محبت پڑ جائے
اپنا اسباب ہی ہجرت میں اٹھانا ہے محال
لشکرِ جرم تو کام اپنا کرے بے تعطیل
آئے دن دفترِ انصاف میں رخصت پڑ جائے
بس یہی سوچ کے دشمن سے رعایت برتی
شاید ایسے ہی محبت کی روایت پڑ جائے
سعید دوشی
No comments:
Post a Comment