Sunday, 8 January 2017

وہ طرح طرح کی شوخی وہ نئی نئی ادائیں

وہ طرح طرح کی شوخی، وہ نئی نئی ادائیں
انہیں یاد کیا نہیں ہے، انہیں یاد کیا دلائیں
مِرے شوق کی صداقت مِری بے غرض وفائیں
یہ طلسم عاشقی ہے، وہ فریب میں نہ آئیں
کوئی خوش جمال ہو گا، کوئی بے مثال ہو گا
ہمیں کس سے ہے محبت، تمہیں نام کیا بتائیں
مِرے عرضِ غم پہ ان کو ابھی سوچنا پڑے گا
یہ معاملہ ہے دل کا، وہ سمجھ کے مسکرائیں
تِری گفتگو کو سمجھا تو چٹک گئے شگوفے
تِرے گیسوؤں کو دیکھا تو ٹھٹک گئیں گھٹائیں
مجھے دل کی دھڑکنوں کا نہیں اعتبار ماہرؔ
کبھی ہو گئی ہیں شکوے، کبھی بن گئیں دعائیں

ماہر القادری

No comments:

Post a Comment