Sunday, 8 January 2017

کس قیامت کی گھٹ چھائی ہے

کس قیامت کی گھٹ چھائی ہے
دل کی ہر چوٹ ابھر آئی ہے
درد بدنام،۔۔۔ تمنا رسوا
عشق رسوائی ہی رسوائی ہے
اس نے پھر یاد کیا ہے شاید
دل دھڑکنے کی صدا آئی ہے
زلف و رخسار کا منظر توبہ
شام اور صبح کی یکجائی ہے
ہم سے چھپ چھپ کے سنورنے والے
چشمِ آئینہ تماشائی ہے
دل تمنا سے ہے کتنا بے زار
ٹھوکریں کھا کے سمجھ آئی ہے
تم سے ماؔہر کو نہیں کوئی گِلہ
اس نے قسمت ہی بری پائی ہے

ماہر القادری

No comments:

Post a Comment